بلاول بھٹو زرداری کا آکسفورڈ یونین میں خطاب، پاکستان میں جمہوریت کو لاحق خطرات پر اظہار خیال

آکسفورڈ یونین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں جمہوریت کی کمزوری بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی جمہوریت کو مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ملکی سیاست میں جمہوری اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، خاص طور پر میثاق جمہوریت میں پارٹی کا کردار نمایاں رہا۔

اپوزیشن کو مصروف رکھا، قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں اپوزیشن کو مصروف رکھا اور قومی سیاست میں ضرورت پڑنے پر ہمیشہ تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے ماضی میں اپنی پارٹی پر ہونے والے احتسابی عمل کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کو احتساب کے نام پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آصف علی زرداری پہلی بار منتخب ہوئے تو اس وقت کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں تھا، لیکن بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کی پھپھو کو گرفتار کیا گیا۔

سیاسی انتقام کی مخالفت، مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

بلاول بھٹو زرداری نے بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں شہباز شریف اور دیگر سیاستدانوں کی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی بلکہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں جیل مینو میں تبدیلیاں کی گئیں، اور اب جیل سہولیات میں بہتری کے لیے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

نیب احتساب نظام کی مخالفت

پی پی چیئرمین نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بطور سیاسی قیدی طویل عرصہ جیل میں گزارا، لیکن پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو اس نے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ہمیشہ نیب کے نظام احتساب کی مخالفت کرتی رہی ہے اور سمجھتی ہے کہ اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

Comments are closed.