لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی تفتیش اور ریکارڈ سسٹم پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سے کیس کا مکمل ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔
والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا؟
کاہنہ سے مبینہ اغوا ہونے والی خاتون کے لیے دائر حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے والدین کی جانب سے بچوں کا ریکارڈ نادرا میں درج نہ کروانے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ اگر بچوں کا ڈیٹا موجود ہوتا تو گرفتاری یا سراغ لگانے میں آسانی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنی بنیادی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں، ورنہ تفتیش کے مسائل بڑھتے ہیں۔
پولیس تفتیش
ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے عدالت کو بتایا کہ خاتون کی تلاش کے لیے رحیم یار خان، راجن پور سمیت مختلف علاقوں میں ٹیمیں بھیجی گئی ہیں اور کیس کو ہیومن ٹریفکنگ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اتنے عرصے بعد بھی تفتیش کیوں جاری ہے؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی جگہ بھی خاتون نظر نہ آئی ہو؟
ٹک ٹاک اکاونٹ پر خاتون کی تصویر
ڈی آئی جی نے انکشاف کیا کہ خاتون کی تصویر ایک پولیس کانسٹیبل کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ملنے پر تحقیق کی گئی ہے، جسے اس نے “مزاح” کے طور پر اپلوڈ کیا تھا۔
چیف جسٹس نے سخت اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا:“ایک پولیس اہلکار خاتون کی تصویر ٹک ٹاک پر کیسے لگا سکتا ہے؟ کیا حساس ریکارڈ سب کی رسائی میں ہے؟ کیا آپ خواتین کا مذاق بناتے ہیں؟”عدالت نے سوال اٹھایا کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر کیسے پہنچی، پولیس کا ڈیٹا محفوظ کیوں نہیں اور یہ رسائی کس نے دی۔
عدالتی کارروائی
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس سے مکمل کیس فائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگلی تاریخ دینے سے قبل وہ خود تمام ریکارڈ کا جائزہ لیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ خاتون کے اغوا کے معاملے میں پولیس کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش ہے اور تفتیش کے ہر پہلو کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
سماعت ملتوی
ریمارکس کے بعد عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
Comments are closed.