وفاقی آئینی عدالت میں یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین برطرفی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو سیاسی میدان نہ بنایا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کو آئندہ سماعت کیلئے تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔
درخواست گزار کی تیاری کیلئے مہلت
وفاقی آئینی عدالت میں یوٹیلیٹی کارپوریشن کے برطرف سیلز مین مزمل رفیق کی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے انہیں تیاری کے لیے مزید وقت دے دیا۔ مزمل رفیق نے موقف اپنایا کہ انہیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر انٹرا کورٹ اپیل عدالت کے کہنے پر واپس لینا پڑی، جبکہ 12 ہزار ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے۔
عدالت کے اہم ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سخت ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کو اپنی اپیل خود واپس لینے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا، عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔جسٹس حسن رضوی نے مزید کہا کہ 12 ہزار ملازمین کی بات نہ کریں، اپنی درخواست کے نکات پر بات کریں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ براہ راست وفاقی آئینی عدالت میں درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی ہے۔
آئینی ترمیم کا حوالہ
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مطالعہ کرکے آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں اربوں روپے کی خردبرد پکڑی گئی ہے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اسٹاف نے ’’مزے کیے‘‘۔
یوٹیلیٹی اسٹورز
عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں ہونے والی مبینہ کرپشن اور بدانتظامی حکومت کی بڑی ناکامیوں میں شامل ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے معاملات حکومت کے کرنے کے ہیں جبکہ ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں؟
کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی، اور درخواست گزار کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر قانونی مشورے اور مستند دلائل کے ساتھ پیش ہوں۔
Comments are closed.