ایردوآن کی اپوزیشن پر تنقید، استنبول میں احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مرکزی اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ استنبول کے میئر اکرم امام اوگلو کی قید کے خلاف احتجاج ایک “پرتشدد تحریک” میں بدل چکا ہے۔ ایردوآن نے اپنی کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کے دوران پولیس افسران کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری حزب اختلاف کی مرکزی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) پر عائد کی۔

ایردوآن نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے سیاسی حریفوں کا کھیل بالآخر ختم ہو جائے گا اور وہ اس “برائی” پر شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے ملک کے خلاف کی ہے۔ ان کا اشارہ امام اوگلو کی جیل منتقلی کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاجات کی طرف تھا، جنہوں نے ملک میں سیاسی کشمکش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

استنبول میں مظاہرے اور جھڑپیں

استنبول میئر اکرم امام اوگلو کی جیل منتقلی کے بعد اتوار کی رات بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے۔ مظاہرین نے امام اوگلو کی جیل منتقلی کو سیاسی دباؤ کا ایک حربہ قرار دیا اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے حالات مزید بگڑ گئے۔

صحافیوں کی گرفتاری

ترک صحافیوں کی یونین نے پیر کے روز اعلان کیا کہ حکام نے احتجاج کی کوریج کرنے والے 9 صحافیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا ایک فوٹوگرافر بھی شامل ہے۔ یونین نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتاریوں کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، تاہم ان میں سے کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔

71 افراد کی گرفتاری

ترک حکام نے استنبول شہر میں مظاہروں میں شرکت کرنے والے 71 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد غیر قانونی طور پر احتجاج میں شریک تھے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان گرفتاریوں کے بعد ترکی میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، اور اس مظاہرے نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات میں مزید تلخی پیدا کی ہے۔

نتیجہ

ترکی میں اس وقت ایک سیاسی بحران جاری ہے جس میں استنبول میئر کی قید اور اس کے خلاف مظاہرے اہم موضوع بن چکے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش اور احتجاجات کے دوران گرفتاریوں نے ملک کی سیاست کو نئی سمت دے دی ہے۔ ترکی میں ان مظاہروں اور ان کے نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بحران کس طرف جائے گا۔

Comments are closed.