اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی لسٹ میں شامل افراد اور تنظیموں کے خلاف مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا تین روزہ اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو فروری 2022 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے اہم کمانڈرز کے خلاف مقدمات نمٹائے اور ان انہیں سزائیں دے۔ میڈیا بریفنگ میں ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 26 اور ایشیا پیسفک گروپ کے 34 میں سے 30 ٹاسک پر نمایاں پیشرفت کی ہے ۔
مارکس پلیئر کاکہناتھاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کررہے ہیں جس میں پینڈوارا پیپرز نے بھی معاونت کی۔ آف شور کمپنیوں میں سرمائے کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے اور ان میں منی لانڈرنگ کے سرمائے کا جائزہ لیں گے۔ ایف اے ٹی ایف فیصلے کے مطابق پاکستان کے علاوہ ترکی، مالے اور اردن بھی گرے لسٹ میں رہیں گے۔
Comments are closed.