بلوچستان :تربت کی عدالت نے طالب علم حیات بلوچ کو قتل کرنے والے ایف سی اہل کار کو سزائے موت سنائی ہے۔
حیات بلوچ کو گزشتہ سال 13 اگست کو فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار نے ان کے والدین کے سامنے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔اب مجرم کے پاس ایک ماہ کی مہلت ہے۔ اس دوران وہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔
حیات بلوچ کے بھائی مراد مرزا بلوچ نے اپنے بھائی کے قتل کے مقدمے پر عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے کیس کے دوران ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ہم نے آزادانہ طریقے سے کیس کی پیروی کی ہے۔
حیات بلوچ ضلع تربت کے رہائشی اورکراچی میں شعبہ فزیالوجی میں بی ایس کے فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔کورونا وباء کے باعث یونیورسٹی بند تھی جس کی وجہ سے وہ آبائی علاقے تربت میں مقیم تھے جہاں ایف سی اہلکارنے انہیں ناحق گولی مارکرقتل کردیا تھا۔
Comments are closed.