بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مطابق آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے 25 فروری کو نیا قانون منظور کرلیاہے جس کے بعد اب گوگل و فیس بک جیسی کمپنیاں آسٹریلیا کے صحافتی اداروں کو معاوضہ فراہم کریں گی۔آسٹریلوی حکومت نے گزشتہ برس کے آخر میں مذکوہ قوانین بنانے کا اعلان کیا تھا،جس کے بعد گوگل و فیس بک نے آسٹریلیا میں کام بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی مگر بعد میں گوگل نے میڈیا کو معاوضہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
فیس بک نے مذکورہ قوانین سے اختلاف کرتے ہوئے 17 فروری کو آسٹریلیا میں ہر طرح کے صحافتی مواد کی شیئرنگ اور اشاعت پر پابندی لگادی تھی۔فیس بک کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد کسی بھی آسٹریلوی نشریاتی و صحافتی ادارے کے مواد کو فیس بک پر شیئر نہیں کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی بیرون ممالک کے میڈیا مواد کو آسٹریلوی شہری شیئر کر سکتے تھے۔اسی طرح بیرون ممالک کے لوگ بھی آسٹریلوی نشریاتی و خبر رساں اداروں کے مواد کو شیئر کرنے سے قاصر تھے۔فیس بک و آسٹریلوی حکومت میں مذاکرات ہوئے اور دونوں مجوزہ قوانین میں کچھ تبدیلیوں پر رضامند ہوئے، جس کے بعد فیس بک نے بھی آسٹریلیا میں صحافتی مواد سے پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سی این این کے مطابق نئے قوانین کے تحت گوگل سرچ انجن پر نظر آنے والے آسٹریلوی صحافتی اداروں کے مواد پر متعلقہ اداروں کو معاوضہ فراہم کرے گا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نئے قوانین کے تحت گوگل اور فیس بک آسٹریلوی صحافتی اداروں کو کتنا معاوضہ فراہم کریں گے، تاہم امکان ہے کہ قوانین کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں صحافتی اداروں کو 25 سے 40 فیصد تک کمائی کا معاوضہ ادا کریں گے۔دنیا بھر میں خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کے آنے سے صحافتی اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، کیوں کہ اشتہارات کا 70 سے 80 فیصد حصہ وہ لے جاتے ہیں۔
Comments are closed.