اسلام آباد: وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی 2019ء جاری کردی۔ حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی۔ قرعہ اندازی 8 مارچ کو ہوگی۔
ویب سائٹ پر جاری کردہ نئی حج پالیسی کے مطابق سرکاری اسکیم کے تحت حج کرنے خواہش مند افراد مقررہ بینکوں کی نامزد برانچوں میں درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ شمالی علاقوں کے لیے حج پیکج 4لاکھ 36 ہزار 975 جبکہ جنوبی علاقوں کے لیے 4 لاکھ 26 ہزار 975 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ قربانی کے لیے 19 ہزار 451 روپے اس کے علاوہ ہوں گے۔
حج کے لیے دس فروری دو ہزار بیس تک کی معیاد کا پاسپورٹ،کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور میڈیل سرٹیفکیٹ لازمی ہوگی۔ رواں سال 5 ہزار کے اضافی کوٹہ کے ساتھ پاکستان سے مجموعی طور پر 1لاکھ 84 ہزار 210 عازمین فریضہ حج ادا کریں گے جس میں سرکاری اسکیم کا کوٹہ ایک لاکھ 7 ہزار 526 جبکہ پرائیویٹ اسکیم کے لیے 71 ہزار 684 حجاج مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے رواں سال بھی کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔ حج پالیسی کے مطابق اسی سال سے زیادہ عمررسیدہ افراد اور تین سال مسلسل ناکام رہنے والے عازمین کے لیے دس دس ہزار کا الگ کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
گزشتہ پانچ سال میں سرکاری اسکیم سے حج نہ کرنے والے افراد بھی حج بدل اور نفلی حج کے لیے درخواست دینے کے اہل ہونگے۔ سرکاری اسکیم کے تحت پچاس فیصد عازمین کو پاکستان سے براہ راست مدینہ منورہ پہنچایا اور واپس لایا جائے گا۔
مکہ مکرمہ میں حجاج کرام کو عزیزیہ بطحہ قریش میں ہی ٹھہرایا جائےگا اور حرم پاک لیجانے اور لانے کے لیے چوبیس گھنٹے ٹرانسپورٹ کی سہولت دی جائے گی۔
مدینہ منورہ میں سرکاری اسکیم کے تمام حجاج کرام کو مرکزیہ میں ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔ حج پالیسی کے مطابق حجاج کرام کو مکہ، مدینہ اور منی و عرفات میں تین وقت کھانا فراہم کیا جائے گا۔ رواں سال گلگت میں عارضی حاجی کیمپ بنایا جائے گا جہاں سے حاجیوں کو سرکاری خرچ پر بذریعہ بس اسلام آباد ایئرپورٹ لایا جائے گا۔ گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دور افتادہ اضلاع کے حجاج کی سہولت کے لیے موبائل بائیو میٹرک ویریفکیشن کا بندوبست کیا جائے گا۔
Comments are closed.