امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ اگر کئی سالوں تک چلی تو اس کے نتیجے میں دنیا کو ایک تباہ کن ایٹمی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وینس نے یہ بیان پیر کے روز ایک انٹرویو کے دوران دیا جو معروف امریکی بلاگر چارلی کرک کو دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “بعض بڑے میڈیا ادارے اس تاثر کو ہوا دے رہے ہیں کہ روس اس جنگ میں شکست کھا جائے گا، یوکرین اپنی کھوئی ہوئی زمینیں واپس لے لے گا، اور سب کچھ جنگ سے پہلے کی حالت میں آ جائے گا، لیکن یہ سب خیالی پلاؤ ہے۔”
وینس کے مطابق، حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ لمبی ہوئی تو اس کے ممکنہ نتائج میں “سماجی نظاموں کا انہدام” اور “ایٹمی تصادم” جیسے مہلک خطرات شامل ہو سکتے ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے TASS کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ وینس نے زور دیا کہ امریکی حکومت اس تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر کے جنگ کا خاتمہ یقینی بنائیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی جنگ شدت اختیار کر رہی ہے اور عالمی برادری میں ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
Comments are closed.