گلگت بلتستان کی یوم آزادی پریڈ سے خطاب کے دوران عمران خان نے گلگلت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے ہم نے آج پورا کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ73 سال پہلے یہاں کے اسکاؤٹس نے گلگت بلتستان کو آزاد کرایا، وہ گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ خوشی منانے آئے ہیں، جب تک وزیر اعظم رہوں گا یہی کوشش ہوگی کہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں، گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی دنیا میں کہیں نہیں۔
اپنے خطاب میں قوم کو پاکستان کے لیے مضبوط فوج کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں دیکھیں اور لیبیا سے شروع کریں پھر صومالیہ، شام، یمن، افغانستان اور عراق کو دیکھیں تو تباہی مچی ہوئی ہے یا تو جنگیں ہوچکی ہیں یا ہورہی ہیں اور عوام مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح کی دہشت گردی گزشتہ 15 سال میں ہوئیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کو داد دیتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہمارا وہ حال نہیں جو کئی دیگر مسلمان ممالک کا ہے۔
اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں پچھلے 73 سال میں سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت آئی ہے، بھارتی حکومت انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی، آج ہمیں مضبوط سیکیورٹی فورس کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا دشمنوں نے فائدہ اٹھایا، سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے، بھارت نے شیعہ سنی علما کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، سیکیورٹی فورسز نے انتشار پھیلانے کے منصوبے پاش پاش کیے۔
اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو پہلے خطاب میں ہی کہا تھا کہ ان لوگوں نے 30 سال ملک کو لوٹا اور یہ پیسہ بیرون ملک لے گئے، یہ ہمارے خلاف اکٹھے ہوں گے، دوسری بات یہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس چیز میں ان کا نقصان ہے، یہ چاہتے ہیں مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں، یہ مجھے بلیک کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، میں ان کو این آر او نہیں دوں گا، میرے خلاف ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ملکی اداروں کے طرف کردیا۔ یہ ڈاکو آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، ان لوگوں نے آئی ایس آئی کے چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔
Comments are closed.