اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور ملک آئین و قانون کے تحت چل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدلیہ میں ججز کے استعفوں کا سلسلہ رکے گا نہیں، کیونکہ ماضی میں کئی فیصلے سیاسی جانبداری کی بنیاد پر کیے گئے۔
پارلیمنٹ کی بالادستی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مفاد میں قانون سازی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ اداروں کا مرکز ہے اور آئینی فیصلوں کی اصل اتھارٹی عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔
ماضی کے عدالتی فیصلوں پر سوالات
انہوں نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کی برطرفیوں کو بھی متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ “کیا واقعی انہیں ہٹانا درست فیصلہ تھا؟” انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں کچھ ججز ایسے رہے جنہوں نے مخصوص سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کو ہی انصاف سمجھا۔
جانبدار ججز اور تاریخی مثالیں
ملک احمد خان نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، ثاقب نثار اور بعض دیگر ججوں کے فیصلوں کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔انہوں نے کہا کہ ایسے ججز بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے نبھائیں، اور ایسے تمام ججز کو وہ سلام پیش کرتے ہیں۔
عدالتی اصلاحات پر زور
اسپیکر نے کہا کہ عدالتی فیصلوں میں آئین کو ازسرنو لکھنے کی کوشش مناسب نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر چیف جسٹس کے دور کے فیصلے دیکھ لیے جائیں—بیس سال کا ریکارڈ بتائے گا کہ کہاں کہاں تضادات موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وکلا تحریک کے اثرات اور وزن بھی جلد واضح ہو جائیں گے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان آگے بڑھے اور اداروں میں توازن بحال کیا جائے۔
Comments are closed.