صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت منظور،،، لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی درخواست پر متفقہ فیصلہ سنا دیا
منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے کی، نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے پارٹی فنڈ کے لیے 20 لاکھ دیے جو انہوں نے اپنے ملازمین کی کمپنیوں میں جمع کرواٸے، پیسے شہباز شریف کے اکاونٹ میں نہیں آٸے مگر ان کے گھرانے کےافراد کے نام پر آٸے، جب شہباز شریف کو رقم چاہیے ہوتی تو انکے گھرانے کے افراد ان کی ضرورت کے مطابق رقم دے دیتے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جو ٹی ٹیز آتی تھیں ان کے ذراٸع کیا تھے؟ آخر وہ رقم کہاں سے آتی تھی جو ٹی ٹیزکے ذریعے بھجواٸی گٸی، آپ یہ بتاٸیں کہ کیا نیب نے تفتیش کی کہ یہ رقم کیا کک بیکس کی ہے یا کرپشن کی، نیب پراسیکیوٹر سے مکالمے کے دوران عدالت نے کہا کہ آپ کو تو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ تفتیش کرتے کہ ان کے غیر قانونی ذراٸع کیا تھے۔
عدالت نے کہا کہ اگر نیب کے مطابق شہباز شریف کے گھر میں کروڑوں روپے آتے تھے تو وہ دیتا کون تھا، یہ پیسہ غیر قانونی ہے تو کسی وجہ سے ہی کمایا گیا ہوگا، نیب نے تفتیش کی کہ کس جگہ پر کمیشن لیا کس جگہ کرپشن کی؟ عدالت عالیہ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد شہباز شریف کی درخواست ضمانت 10،10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
Comments are closed.