بحرِ عرب میں پاکستانی بحریہ کی بڑی کارروائی، 130 ملین ڈالر مالیت کی منشیات کی کھیپ ضبط

مشترکہ بحری فورسز نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز  پی این ایس تبوک نے بحرِ عرب میں دو ٹن سے زائد کرسٹل میتھامفیٹامین  (آئس) ضبط کرتے ہوئے ایک بڑی بین الاقوامی اسمگلنگ کوشش ناکام بنا دی۔ یہ ایک ماہ میں تیسری بڑی کارروائی ہے۔

بحرِ عرب میں اہم کارروائی

مشترکہ بحری فورسز کے مطابق پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایستبوک نے 16 نومبر کو معمول کی سکیورٹی گشت کے دوران ایک مشتبہ کشتی روک کر اس سے 130 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کی۔کارروائی عمان کے مشرق میں تقریباً 100 بحری میل کے فاصلے پر ہوئی، جہاں کشتی نہ تو آئیڈنٹیفیکیشن سسٹم چلا رہی تھی اور نہ ہی اس پر کوئی ملک یا شناخت ظاہر کرنے والا نشان موجود تھا۔

کشتی پر چڑھائی، دو ٹن منشیات برآمد

ٹاسک فورس 150 کی اجازت کے بعد پی این ایس تبوک کے عملے نے کشتی پر چڑھ کر جامع تلاشی لی۔بیان کے مطابق تلاشی کے دوران دو ٹن سے زائد کرسٹل میتھامفیٹامین (آئس) برآمد ہوئی، جسے موقع پر ہی ضبط کرکے تلف کردیا گیا۔

ٹاسک فورس 150 کی مسلسل کامیابیاں

سعودی کمانڈر بریگیڈیئر فہد الجعید نے کہا کہ

“یہ کارروائی ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بڑی کامیابی ہے، جو کثیر القومی سمندری تعاون کی مؤثر صلاحیت کا ثبوت ہے۔”

اس سے قبل پاکستانی بحریہ کے جہاز پی این ایس  یرموک نے 18–20 اکتوبر کے دوران بحرِ عرب سے 2.5 ٹن منشیات ضبط کی تھیں جن کی مالیت 972.4 ملین امریکی ڈالر سے زائد تھی۔

مشترکہ بحری فورسز

ٹاسک فورس 150، مشترکہ بحری فورسز کے پانچ گروپوں میں سے ایک ہے، جس کا بنیادی مقصد بحیرہ ہند، بحرِ عرب اور خلیجِ عمان میں دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔

اس فورس  میں 47 ممالک شامل ہیں، اور یہ فورس 3.2 ملین مربع میل پر مشتمل دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں بین الاقوامی امن، سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے۔

Comments are closed.