پیپلز پارٹی کے خلاف فضل الرحمان کا خفیہ منصوبہ بے نقاب،بلاول بھٹو آگ بگولہ

پیپلز پارٹی کو دباو میں لانے کے لیے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خفیہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ایک لیک آڈیو ٹیپ نے بڑی سازش وقت سے پہلے فاش کر دی۔

ذرائع کے مطابق سندھ سے جے یو آئی کے رہنما راشد سومرو کی ایک آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ جے یو آئی کے سکھر اور لاڑکانہ کے پارٹی عہدیداران کو کہہ رہے ہیں کہ مولانا فصل الرحمان کی ہدایات ہیں کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں ٹف ٹائم دیا جائے اور مولانا کی ہدایت ہے کہ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی کے دن گڑھی خدا بخش میں ان کے مزار پر احتجاج بھی کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق راشد سومرو کی یہ آڈیو ٹیپ سندھی زبان میں ہے اور یہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی سنائی گئی ہے جس کے بعد بلاول بھٹو زرداری سخت برہم ہیں۔

پیپلز پارٹی چئیرمین کا کہنا ہے کہ ایسا تو کسی ڈکٹیٹر نے نہیں کہا کہ گڑھی خدا بخش میں احتجاج کیا جائے اور مولانا فصل الرحمان ایسی ہدایت کیسے دے سکتے ہیں؟

ذرائع کا دعوی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا پی ڈی ایم سربراہ بننے کے بعد سے ہی پیپلز پارٹی کی قیادت سے یہ مطالبہ رہا ہےکہ سندھ میں جے یو آئی کے کارکنان کو نہ صرف نوکریوں میں ایڈجسٹ کیا بلکہ اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتیاں بھی جائیں۔اس سے پہلے بھی مولانا فضل الرحمان کے آصف زرداری سے مطالبے پر ہی مولانا کے بھائی کراچی میں ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا تھا لیکن اب مولانا کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کا کہناہے کہ پی ڈی ایم سربراہ بننے کے بعد مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو اپنی ماتحت جماعتیں سمجھنا شروع ہو گئے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کو پہلے سے ہی تحفطات تھے اور اب اس آڈیو ٹیپ کے سامنے آنے سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو کے ٹیلی فون کرنے پر بھی مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ جلسے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ جلسے میں جے یو آئی کی نمائندگی مولانا غفور حیدری کی قیادت میں وفد کرے گا۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اگر پی ڈی ایم اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کرتی تو وہ پھر اپنا فیصلہ کر سکتی ہے۔اب اس قدر خطرناک آڈیو ٹیپ سامنے آنے کے بعد مولانا اور پیپلز پارٹی میں دوریاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Comments are closed.