امن مذاکرات نتیجہ خیزبنانے کیلئےطالبان قیادت کی سربراہی ملابرادرکے سپرد

کابل: افغان طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر قطر میں قائم طالبان کے سیاسی مرکز کے سربراہ نامزد کر لیے گئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں ملا عبدالغنی برادر افغان طالبان کی سیاسی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 17 سال سے جاری خون ریز جنگ کے خاتمے کے لیے اب ملا عبدالغنی برادر امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں۔

ملا عبدالغنی برادر کو گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی جیل سے رہا کیا گیا تھا اور اب انہیں افغان طالبان کی سیاسی ٹیم کی قیادت کرنے اور فیصلہ سازی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں طالبان کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا جس میں ملا عبدالغنی برادر کی تعیناتی اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کے لیے سینیئر رہنما کو اہم ذمہ داری سونپنے اور مذاکراتی ٹیم میں ردو بدل کرنے کا اعلان کیا گیا۔میں کہا گیا کہ

’یہ اقدام امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کو مضبوط کرنے اور اس عمل کی بہتر طور پر انجام دہی کے لیے اٹھایا گیا‘۔

معروف پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے مطابق اس ضمن میں ایک سینئرطالبان رہنما کا کہنا تھا کہ چونکہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات میں طالبان کی سینئر قیادت شریک ہو چنانچہ عبدالغنی برادر کو نئی ذمہ داری سونپی گئی اور وہ جلد مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے قطر روانہ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کے ساتھ مل کر تحریک طالبان کی بنیاد رکھی تھی اور وہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے سے قبل طالبان حکومت کا اہم حصہ تھے۔ انہیں فروری 2010 میں پاکستان کے انٹرسروسز انٹیلی جنس اور امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔

جس کے بعد گزشتہ برس 12 اکتوبر کو زلمے خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں طالبان کے مطالبے پر متعدد دیگر طالبان رہنماؤں کو رہا کیا گیا، جن میں ایک ملا عبدالغنی بھی تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طویل ترین جاری تنازعے کا سیاسی حل نکالنے کے لیے سفارتی کوششیں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی تعیناتی کے بعد کافی تیز ہوئیں۔افغان نژاد امریکی نمائندہ خصوصی اب تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے 4 دور کرچکے ہیں۔

Comments are closed.