پاکستان نے بھارتی مسافر اور ملٹری طیاروں کیلئے فضائی حدود کی بندش مزید بڑھا دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی ٹریفک کی بحالی ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ اس اقدام سے بھارتی ایئرلائنز کو مالی نقصان میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان کا فیصلہ اور نئی توسیع
پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش میں 23 دسمبر تک توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے اس حوالے سے نیا نوٹمجاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بھارتی طیاروں کیلئے پاکستان کی فضائی حدود مسلسل بند رہے گی۔
پس منظر اور پہلے سے جاری پابندی
پاکستان نے 23 اپریل 2025 سے بھارتی فضائی آپریشن کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔ اس بندش کے باعث بھارتی تمام مسافر اور فوجی طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، جس کا براہِ راست اثر بھارت کی بین الاقوامی پروازوں کے روٹس اور اخراجات پر پڑ رہا ہے۔
بھارتی ایئرلائنز کو اربوں کا نقصان
پاکستان کی فضائی پابندی کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو پروازوں کے روٹس تبدیل کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اضافی اخراجات، طویل سفری اوقات اور مجموعی طور پر آپریشنل خرچ میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ایئر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے، جبکہ دیگر بھارتی ایئرلائنز بھی نمایاں مالی دباؤ میں مبتلا ہیں۔
مزید توسیع کا امکان
سفارتی کشیدگی اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یہ بندش مزید آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کے استعمال پر جاری تنازعہ کا کوئی سیاسی یا سفارتی حل تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
Comments are closed.