پاکستان کا شام کے استحکام اور اصلاحاتی عمل کے لیے عالمی حمایت کے تسلسل پر زور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ شام میں دیرپا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی عمل شامی قیادت کے تحت، جامع اور شفاف انداز میں آگے بڑھے، جبکہ عالمی برادری شام کی بحالی اور ریاستی استحکام کیلئے مسلسل معاونت جاری رکھے۔
پاکستان کا مؤقف
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ شام کا سیاسی عمل مکمل طور پر شامی عوام کی قیادت اور ملکیت میں ہونا چاہیے تاکہ نتائج پائیدار، معتبر اور تمام طبقات کی امنگوں کے مطابق ہوں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی نئی قرارداد 2799 سیاسی ماحول بہتر بنانے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور خطے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گی۔
بحالی کے امکانات
پاکستانی مندوب نے کہا کہ معاشی پابندیوں میں نرمی اور بحالی و تعمیر نو کے مواقع کھلنا حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ شامی حکومت کے ساتھ مل کر مرکزی بینکاری نظام کو مضبوط بنانے اور قومی بجٹ کی تیاری میں مدد کریں۔
داعش کے خطرات
سفیر نے خبردار کیا کہ سکیورٹی خلا اور دور دراز علاقوں میں داعش کا دوبارہ طاقت پکڑنا علاقائی استحکام کیلئے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے بڑے پیمانے پر تشدد کی واپسی روکنے کیلئے مستقل چوکسی، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اسرائیلی دراندازیوں پر پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستان نے جنوبی شام میں اسرائیلی دراندازیوں، مستقل چوکیوں کے قیام اور 1974 کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ یہ اقدامات شام کے استحکام کو نقصان پہنچانے والے اور عالمی قوانین کے منافی ہیں۔
شام کی وحدت اور خودمختاری پر واضح مؤقف
پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت پائیدار امن کیلئے بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے مارچ 2025 میں شامی ڈیموکریٹک فورسز سے معاہدے کے اعادے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ سیاسی و سکیورٹی ڈھانچہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
السویدا کی صورتحال
سفیر نے صوبہ السویدا کی بگڑتی صورتحال پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان شامی عوام کی جائز امنگوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ امن کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔
Comments are closed.