پی آئی اے طیارے کی لیز کی مد میں برطانوی کمپنی کو 20 لاکھ ڈالر ادا کرے گی

برطانیہ میں پریگرین ایوی ایشن چارلی لمیٹڈ نے پی آئی اے کے خلاف 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا دعویٰ دائر کیا تھا۔پی آئی اے نے اس کمپنی کے ساتھ ایک لیز معاہدہ کیا تھا جس میں لیز رینٹل، مینٹیننس ریزرو اور بوئینگ777 سیریل نمبر 32,716 اور بوئینگ 777-200 ای آر سیریل نمبر 32,717 کی انشورنس شامل تھی۔

معاہدے کے مطابق لیز رینٹل کے چارجز 5 لاکھ 80 ہزار ڈالر جبکہ مینٹیننس ریزرو کی لاگت 3 لاکھ 15 ہزار ڈالر ماہانہ تھی۔پی آئی اے کا مؤقف ہے کہ مینٹینس ریزرو پرواز کے چکروں کے حساب سے شمار کیے جاتے ہیں جو طیارے کے اسٹارٹ ہونے اور بند ہوتے وقت درج ہوتے ہیں۔

چونکہ یہ طیارہ کووِڈ 19 عالمی وبا کے باعث اپریل سے ستمبر تک گراؤنڈ رہا اس لیے پی آئی اے کا کہنا ہے کہ مینٹیننس کی لاگت نہیں بنتی۔تاہم ایوی ایشن کمپنی کا مؤقف یہ ہے کہ معاہدے کے تحت کووِڈ 19 ایسی قوت نہیں جو ذمہ داری کم کرتی ہے اور پی آئی اے کو اس بات سے قطع نظر رقم ادا کرنی چاہیے کہ طیارے نے کتنی پرواز کی۔معاہدے کی نوعیت کے اعتبار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی آئی اے کو طیارہ نہ اڑنے کے باوجود مینٹینس ریزرو لاگت کے طور پر 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔دونوں فریقین نے معاملات عدالت کے باہر حل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو عدالت سے سماعت ملتوی کردی۔

اس وقت پی آئی اے کے پاس 18 طیارے لیز پر ہیں جن میں سے زیادہ تر کے معاہدوں میں مینٹیننس ریزو استعمال کےحساب سے چارج ہوگی۔

Comments are closed.