پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ضمنی انتخابات کے کم ٹرن آؤٹ کو بنیاد بنا کر الیکشن کے عمل پر سوالات اٹھا دیے۔ لاہور میں عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے اس انتخاب کا بائیکاٹ کیا، جب کہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹر کے بغیر الیکشن لڑنے کی “عادت” پڑ چکی ہے۔
کم ٹرن آؤٹ پر سخت مؤقف
چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ الیکشن ووٹروں سے ہوتا ہے، اور اگر ٹرن آؤٹ 20 فیصد سے بھی کم ہو تو “وہ الیکشن نہیں ہوتا‘‘۔ ان کے مطابق اتوار کے ضمنی انتخابات میں عوام نے کھل کر اپنی عدم دلچسپی ظاہر کی، جس کا نتیجہ انتہائی کم ووٹرز کی صورت میں سامنے آیا۔
انہوں نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم ٹرن آؤٹ کے باوجود نتائج کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی عادی ہوچکی ہے۔
عمران خان کی جیل میں موجودگی کا حوالہ
گفتگو کے دوران چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی دو سال سے زائد قید کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کوئی گھبراہٹ نہیں، اس لیے کارکنوں کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت اپنے مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں استقامت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اپنے کردار پر قیاس آرائیوں کی تردید
چوہدری پرویز الٰہی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ سیاست میں پیچھے ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر تیسرے دن پریس کانفرنس کرتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں پوری طرح موجود ہیں، اس لیے یہ تاثر حقیقت کے خلاف ہے۔
ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی برتری
واضح رہے کہ اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جب کہ پنجاب اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستیں بھی ن لیگ کے حصے میں آئیں۔ کم ٹرن آؤٹ کے باوجود یہ نتائج ن لیگ کے لیے سیاسی طور پر بڑی کامیابی قرار دیے جارہے ہیں۔
Comments are closed.