خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور گردونواح کے علاقوں میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ شہر کی بڑی شاہراہیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئیں جبکہ ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
متاثرہ علاقے
بارش کے باعث جی ٹی روڈ، اشرف روڈ، کوہاٹی، ہشتنگری، سکندرپورہ، گلہار، ورسک روڈ، ناصر باغ روڈ اور ریگی ماڈل ٹاؤن سمیت متعدد علاقے زیر آب آگئے۔ شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور گھروں، دکانوں اور دفاتر میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
بارش کی پیمائش
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش چِراٹ میں ریکارڈ کی گئی جہاں 165 ملی میٹر بارش ہوئی۔ پشاور شہر میں 41 ملی میٹر جبکہ ایئرپورٹ کے علاقے میں 35 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ صوبے بھر میں 3 سے 4 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کی سرگرمیاں
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا اسفندیار خٹک نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی نے ریسکیو اور نکاسی آب کے جاری آپریشنز کا جائزہ لیا اور اربن فلڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کی۔
مشینری اور نکاسی آب کا عمل
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 50 سے زائد ڈی واٹرنگ پمپس اور مشینری تعینات کی گئی ہیں جو مسلسل پانی کی نکاسی میں مصروف ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکمے بھی نکاسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
مشترکہ ریلیف آپریشن
ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈی جی ریسکیو اور ڈی جی پی ڈی ایم اے مل کر ریلیف سرگرمیوں کی مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ شہریوں کو بروقت مدد پہنچائی جا سکے اور اربن فلڈنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا فوری حل نکالا جا سکے۔
Comments are closed.