سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے کابینہ اراکین کی تفصیلات طلب کرلیں

  اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے کابینہ اراکین کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان کے رول میں ترمیم کی؟ ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم بظاہر مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی، آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنیٰ نہیں دیتا، وفاقی وزراء کیخلاف فوجداری کارروائی چلتی رہنی چاہیے،فوجداری نظام سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے تحقیقاتی اداروں میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟ کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟، نیب کے مطابق ان سے پوچھے بغیر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کردوں گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 120 دن کا اطلاق نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے دن سے ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا سرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ کابینہ کا کام ہے ہر کیس کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد نظرثانی کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا۔ایف آئی اے افسران کے تبادلے کے حوالے سے جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ بہت سے معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات کے ذریعے کور کیا گیا،وزارت قانون نے 13 مئی کو سکندر ذوالقرنین سمیت ایف آئی اے پراسکیوٹرز کو معطل کیا اور پراسکیوٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، انویسٹی گیشن آفیسر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیا گیا حالانکہ وہ تبدیل ہونے کے ایک مہینہ بعد بیمار ہوا۔سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے اور ڈائریکٹر لاء آپریشنز ایف آئی اے عثمان گوندل کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔۔

Comments are closed.