ہم یہ کیوں نہیں تسلیم کرتے مداخلت ضرور ہے لیکن اچھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

 اسلام آباد:سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے ایکٹ کی حمایت میں دلائل دئیے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اور جسٹس منیب اخترکے درمیان تکرار بھی ہوئی۔ چیف جسٹس نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عائشہ کو سوال کرنے سے روکا تو جسٹس منیب اختر نے سوال کر دیا۔ بولے میں بھی اس عدالت کا ایک جج ہوں سوال پوچھنا میرا حق ہے، افسوس کہ مجھے بار بارٹوکا جا رہا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا اگرہم نے پہلے ہی اپنے ذہن بنا لیے ہیں توہم فیصلے میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حق میں وکیل ایم کیو ایم فیصل صدیقی اور وائس چیرمین پاکستان بار کونسل نے دلائل مکمل کر لیے، دوران سماعت جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اعجاز الاحسن نے سوالات کیے تو چیف جسٹس نے روکتے ہوئے وکیل کو مخاطب کیا اور ریمارکس دیے ہر سوال کا جواب نہ دیں۔ صرف اپنے دلائل پر توجہ دیں۔ جواب بعد میں دیدیں۔چار سماعتیں ہو چکی ہیں کئی کیسز التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہماری کارکردگی ہے کہ ایک کیس ختم نہیں ہوا۔ ایک موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب کے درمیان تکرار بھی ہو گئی۔
دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ایکٹ سے سپریم کورٹ کی آزادی میں مداخلت کی گئی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہم چیزوں کو اتنا مشکل کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ مداخلت ضرور ہے لیکن اچھی مداخلت ہے؟ہم جب ائینی معاملات پر سماعت کر رہے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کو کھلا رکھنا چاہیے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ یہاں سوال اپیل سپریم کورٹ میں آنے یا یا آنے کا نہیں بلکہ اپیل کے ذریعے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے کا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ واضح ہے کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو قانون کے مطابق بڑھایا جا سکتا ہے، وکیل نے لاء ریفارمز آرڈیننس کا حوالہ دیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ مالٹے کا موازنہ سیب سے کر رہے ہیں، پارلیمنٹ میں اپیل دینے کی براہ راست اجازت بھی نہیں دی گئی۔ آئین میں پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے متعلق براہ راست قانون سازی کا اختیار درج نہیں ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ممکن ہے کوئی میرے سوال سے اتفاق نہ کرے ۔کسی کو اپیل کا حق ملے گا کسی کو نہیں ملے گا۔ پارلیمان کے مطابق سپریم کورٹ کے ہر حکم کی اپیل ہونی چاہیے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر فل کورٹ ہے تو اپیل نہیں ہو گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مستقبل میں جب بات ائے گی تو ہم بھی سمجھیں گے ۔ ہو سکتا ہے کبھی فل کورٹ نہ بیٹھے ،ہم مفروضوں پر بات کر رہے ہیں۔ عدالت نے فریقین اور درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے پر اٹارنی جنرل کو کل ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کل ساڑھے گیارہ تک ملتوی کر دی گئی۔

Comments are closed.