شاہ محمود قریشی نو مئی جلاؤ گھیراؤ کیسز سے بری، عدالت کا فوری رہائی کا حکم

انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نو مئی جلاؤ گھیراؤ کے دو اہم مقدمات میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ اے ٹی سی لاہور کے جج منظر علی گل نے سنایا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ہدایت کی کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

دیگر رہنماؤں کو سنائی گئی سزائیں
اس سے ایک روز قبل انہی مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید اور 6، 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

مقدمات کی نوعیت اور پس منظر
شاہ محمود قریشی کے خلاف یہ مقدمات لاہور کے تھانہ شادمان ٹاؤن میں نذر آتش کرنے اور کینٹ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات سے متعلق تھے، جو 9 مئی 2023 کو ملک گیر احتجاج کے دوران پیش آئے تھے۔ یہ احتجاج عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔

9 مئی کے واقعات کی تفصیل
نو مئی کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو آگ لگائی گئی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ (جناح ہاؤس) پر دھاوا بولا اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا۔

ملک گیر کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں
ان پرتشدد مظاہروں کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 1900 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔ ان میں عمران خان، پارٹی کے مرکزی رہنما اور کارکنان شامل تھے، اور متعدد مقدمات درج کیے گئے۔

Comments are closed.