پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں نئی حب کینال منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیاری کو پانی پہنچانے کے لیے پی سی ون منظور ہو چکا ہے، اور حب ڈیم سے نئی کینال کے ذریعے کراچی کے شہریوں کو پانی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی اور لاہور کے ترقیاتی منصوبوں میں یکساں رفتار ہونی چاہیے، “لاہور کیلئے شہباز سپیڈ، کراچی کیلئے سلو ہو، ایسا نہیں ہونا چاہئے”۔ بلاول نے کہا کہ وزیراعظم سے کہیں گے کہ کےفور منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔
سیاسی و عوامی خدمات کا تذکرہ
بلاول بھٹو نے کہا کہ جیالوں نے نفرت، تقسیم اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی اور آمروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کراچی کے عوام نے ہمیشہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کیا ہے اور یکجہتی کو فروغ دیا ہے۔
بھارت پر شدید تنقید
پیپلز پارٹی چیئرمین نے بھارت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت انتہا پسندوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اور مودی نے نیتن یاہو کی طرز پر پاکستان کا پانی روکنے کی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم مودی کو پیغام دیتے ہیں کہ کراچی والے سندھو کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اگر بھارت باز نہ آیا تو 6 کے 6 دریا چھین کر عوام کو پانی پہنچائیں گے”۔
سندھ طاس معاہدے پر مؤقف
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت نے غیرقانونی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کیا ہے، لیکن اسے اس معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہی پڑے گا۔ بصورت دیگر، پاکستان بھرپور جواب دے گا، چاہے وہ سفارتی محاذ ہو یا جنگ کا میدان۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہر محاذ پر شکست کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے۔
Comments are closed.