اسلام آباد۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سائفرکیس میں سابق چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض پی ٹی آئی کے سابق چئیرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور کی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ؟ قائمقام چیف جسٹس نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے، کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ دفتر خارجہ کوڈڈ سائفر وزیراعظم کو کیسے دے سکتا تھا؟ انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سابق وزیراعظم کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا۔
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے۔نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کردیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے۔
سابق چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نےموقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے۔ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ٹرائل جلد مکمل نہ ہو۔اکتوبر 23 کو چارج لگانے کی کارروائی ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے۔ ابھی اس حکم کو ختم کردیں تو کیا ہوگا۔ التوا مانگ رہے ہیں تو پھر دونوں مقدمات میں ہوگا۔
پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی 40 مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری منظور ہوچکی ہے۔کسی بھی سیاسی لیڈر کیخلاف ایک شہر میں 40 مقدمات درج نہیں ہوئے۔ جس انداز میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مقدمات درج کر رہے ہیں اسے رکنا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ پر سائفر کا مقدمہ چل رہا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ سائفر حساس دستاویز تھا جسے عوامی سطح پر شیئر کیا گیا۔ سائفر حساس کوڈڈ دستاویزتھا۔دفتر خارجہ کوڈڈ سائفر وزیر اعظم کو کیسے دے سکتا تھا۔اعظم خان کے بیان میں واضح ہے کہ وزیراعظم کے پاس موجود دستاویز سائفر نہیں تھی۔اصل سائفر تو آج بھی دفتر خارجہ میں ہی ہوگا۔ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس میں کہا سائفر کیس میں 13 دسمبر کی فردجرم چیلنج ہی نہیں کی گئی۔ سائفر وزیر اعظم کو دینے کا کیا طریقہ کار ہے۔کیس یہ ہے کہ حساس معلومات شئیر کی گئی۔یہ بات ذہن نشین کر لیں نہ ہم سائفر کیس میں ٹرائل کر رہے ہیں اور نہ ہی اپیل سن رہے ہیں۔ہمارے سامنے ضمانت کا کیس ہے۔عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 5 اگست جبکہ سائفر کیس میں 15 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی کو 20 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔13 دسمبر 2023 کو خصوصی عدالت نے آفیشل سیکرٹ کے تحت سابق عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں ایک بار پھر فرد جرم عائد کی تھی۔ اس سے قبل دونوں پر 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 نومبر کو ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے قانونی تقاضوں کے ساتھ ازسرنو ٹرائل کا حکم دیا تھا جس کے بعد اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیکفیشن جاری ہوا
Comments are closed.