مسجد اقصیٰ میں رمضان المبارک کی پہلی نماز جمعہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

بیت المقدس، مسجد اقصیٰ میں اسرائیل حکام کی پابندیوں کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں نے رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نماز ادا کی۔ایک اندازے کے مطابق مسجد میں 70 ہزار سے زائد افراد نے رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نماز ادا کی جو کورونا وائرس کے بعد اس مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔یروشلم کی وقف اسلامی امور کونسل کی سربراہی کرنے والے شیخ عزام الخطیب نے کہا کہ 70 ہزار سے زائد افراد نے مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی جو ایک خوش آئند امر ہے۔

دوپہر تک خواتین، مرد اور بچے جوق در جوق مسجد کا رک کرتے نظر آئے حالانکہ کئی مقامات پر اسرائیلی فورسز نے رکاوٹیں کھڑی کر کے فلسطینی عوام کو مسجد کا رخ کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں کو کووڈ-19 ویکسینیشن کی دستاویزات کے بغیر مسجد میں داخلے سے منع کردیا جس پر فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق علی الصبح سے ہی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں رمللہ اور بیت اللحم سے آنے والے شہری داخلے کے لیے چیک پوائنٹس پر قطار میں کھڑے نظر آئے اور انہیں یروشلم میں داخلے کی اجازت دینے سے قبل اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ انہوں نے ویکسینیشن کرائی ہے یا نہیں۔

مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ حساس تصور کیے جانے والی مسجد الاقصیٰ اس وقت سے تنازع کی زد میں جب 1967 میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے بعد میں اسرائیل کا حصہ بنا لیا تھا۔اسرائیلی پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت اور یہودیوں کے عقائد کا مرکز قرار دیتے ہیں لیکن فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قررا دیتے ہیں۔

Comments are closed.