استنبول: ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر امریکا کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور واقعہ پر سعودی حکومت سے ایک بار پھر جواب بھی مانگ لیا۔ ترک صدر نے سعودی سفارتخانے میں صحافی کے قتل کی مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹی آر ٹی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران رجب طیب ایردوآن نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سخت موقف نہ اپنانے پر امریکا کو آڑے ہاتھوں لیا، انہوں نے سعودی عرب سے جمال خاشقجی کی ہلاکت پر جواب دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘‘ امریکا کی اس افسوسناک واقعہ پر خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے یہاں تک کہ سی آئی اے حکام کو واقعہ کے وقت ہونے والی آڈیو ریکارڈ تک سنائی گئی’’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ہم سب کچھ واضح کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ظلم ہے اور ایک قتل ہوا ہے’’۔
ترک صدر نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ استنبول میں سعودی سفارتخانے کو خاشقجی کے قتل کا حکم چار ماہ پہلے سعودی حکومت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے دیا گیا۔
رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ قتل کی منصوبہ بندی 22 افراد نے کی جس میں سے 15 افراد دو مختلف پروازوں کے ذریعے استنبول پہنچے اور سعودی قونصلیٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کے بقول تمام 22 افراد زیرحراست ہیں۔اس تمام تر صورتحال کے باوجود ہمارے پاس کچھ اطلاعات ہیں کہ ہوسکتا ہے ان میں سے چند کو نکال لیا جائے۔ ملزمان ٹریفک حادثے میں مارے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں پر نظام بہت تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے یہ باتیں ایسے وقت پر کی گئیں جب اقوام متحدہ کی خصوصی تفتیش کار اگنس کیلامرڈ ایک ہفتہ تک ترکی میں خاشقجی قتل سے متعلق شواہد اکٹھے اور تحقیقات کرنے کے بعد واپس روانہ ہوئی تھیں۔
اقوام متحدہ کی تفتیش کار کو قتل کے وقت ریکارڈ ہونے والے آڈیو ٹیپ بھی سنائی گئی جو کہ اس سے پہلے سی آئی اے ڈائریکٹر جینا ہیسپل کے ساتھ ساتھ جرمنی،فرانس اور برطانیہ کے حکام کو بھی سنائی گئی تھی۔
Comments are closed.