جمال خاشقجی قتل: اقوام متحدہ کی ترکی میں تحقیقات مکمل

نیویارک: ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایگنس کیلامرڈ کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ترک وزراء، انٹیلی جنس چیف اور پراسیکیوٹر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے کچھ مایوس ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی تفتیش کار ایگنس کیلامرڈ کی ترکی سے روانگی تک یہ بات غیر واضح ہے کہ ان کی تحقیقات عالمی طاقتوں کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر مجبور کرے گی یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی تفتیش کار کو استنبول میں سعودی سفارتخانے کے اندر جمال خاشقجی کے قتل کے وقت ریکارڈ ہونے والی آڈیو سنائی گئی۔ تاہم سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی قتل کیس میں اقوام متحدہ کی خصوصی تفتیش کار سے تعاون کرنے سے انکار کیا۔ انہیں سعودی حکام کے انٹرویوز کرنے یا تین منزلہ عمارت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلامرڈ کے دورہ ترکی کے بعد یہ امید پیدا ہوا ہے کہ ان کی تحقیقاتی رپورٹ صحافی کے بیہمانہ قتل کی ذمہ داری عائد کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گی۔

ایگنس کیلامرڈ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں قائم ادارہ برائے انسانی حقوق میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد یہ حکومتوں کی آمادگی پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسے آگے لے کر چلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا تحقیقاتی رپورٹ کا مسودہ جھٹلا دیا جائے یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے اور سیکرٹری جنرل کے سامنے پیش کیا جائے۔

سلامتی کونسل اس معاملے پر ٹربیونل قائم یا انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمہ بھجوا سکتی ہے۔ ماضی میں رفیق حریری اور بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پر کی جا چکی ہیں۔

Comments are closed.