واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے درجنوں ممالک کے شہریوں پر سخت سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا انکشاف رائٹرز اور باخبر ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک خفیہ میمو سے ہوا ہے۔
اس اندرونی میمو کے مطابق 41 ممالک کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان پر مختلف نوعیت کی ویزا معطلیاں نافذ کی جا سکیں۔
پہلا گروپ: مکمل ویزا معطلی
پہلے گروپ میں شامل ممالک پر مکمل ویزا پابندی عائد کی جائے گی۔ اس فہرست میں افغانستان، ایران، شام، کیوبا، شمالی کوریا سمیت 10 ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو کسی بھی قسم کا امریکی ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
دوسرا گروپ: جزوی ویزا معطلی
دوسرے گروپ میں شامل اریٹیریا، ہیٹی، لاؤس، میانمار، جنوبی سوڈان جیسے 5 ممالک پر جزوی سفری پابندی لاگو ہوگی۔ ان پابندیوں کے تحت سیاحتی، طلبہ اور امیگرنٹ ویزے محدود کیے جائیں گے، تاہم کچھ استثنیٰ ممکن ہو گا۔
تیسرا گروپ: مشروط ویزا معطلی
تیسرے گروپ میں 26 ممالک جیسے بیلاروس، پاکستان، ترکمانستان شامل ہیں، جنہیں 60 دن کا وقت دیا جائے گا کہ وہ اپنی سیکیورٹی اور معلومات کے تبادلے کے نظام میں بہتری لائیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان پر بھی جزوی ویزا معطلی عائد ہو سکتی ہے۔
انتظامی منظوری اور تبدیلی کا امکان
ایک امریکی اہلکار کے مطابق، یہ فہرست ابھی حتمی نہیں ہے اور اس پر مزید ترامیم ہو سکتی ہیں۔ اس پابندی کو نافذ کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی منظوری درکار ہوگی۔
پالیسی کا پس منظر
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی سات مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں، جسے سپریم کورٹ نے 2018 میں برقرار رکھا تھا۔ موجودہ مجوزہ پابندیاں 20 جنوری کو جاری کیے گئے ایک انتظامی حکم نامے کا حصہ ہیں، جس میں امریکہ میں داخلے کے خواہاں غیر ملکیوں پر سخت سیکیورٹی چیک کی ہدایت کی گئی تھی۔
انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ 21 مارچ تک ان ممالک کی حتمی فہرست پیش کریں جہاں سے سفر کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کیا جائے گا۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا تسلسل
ٹرمپ نے اکتوبر 2023 کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن جیسے ممالک اور دیگر خطرناک علاقوں سے آنے والے افراد پر پابندی لگائیں گے تاکہ امریکی قومی سلامتی کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ مجوزہ اقدامات ٹرمپ کی امیگریشن مخالف پالیسی کے تسلسل کا حصہ ہیں جو انہوں نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز کے ساتھ شروع کی۔
Comments are closed.