امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں

امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں فوری طور پر غیر معینہ مدت تک روک دی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا۔

فائرنگ کا واقعہ

26 نومبر کو وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آنے والے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو گولی مار دی گئی، جن کی حالت تاحال تشویشناک ہے۔ امریکی حکام نے موقع سے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا، جس کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی۔

امیگریشن درخواستوں کی معطلی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں امریکی سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس نے تصدیق کی کہ افغان شہریوں کے لیے امیگریشن کی تمام کیٹیگریز عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اور اسکریننگ پروٹوکول کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ حکمت عملی طے ہوگی۔

سکیورٹی خدشات میں اضافہ

امریکی امیگریشن ایجنسی کے مطابق حالیہ واقعہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے باعث افغان درخواستوں کی جانچ کے موجودہ نظام کو مزید سخت بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام نے کہا کہ نئے سکیورٹی معیار وضع ہونے تک درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

Comments are closed.