امریکہ اب عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر انسانی امداد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں: مارکو روبیو

واشنگٹن / برسلز: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اب عالمی سطح پر انسانی بنیادوں پر بڑی مقدار میں امداد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ انہوں نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے تناظر میں کہی۔

امداد کی عالمی ذمہ داری دیگر ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے

مارکو روبیو نے دنیا کی دیگر امیر اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر آگے بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “امریکہ دنیا کی حکومت نہیں ہے، اس لیے ہم بھی اتنی ہی امداد دے سکتے ہیں جتنی دوسرے ممالک دیتے ہیں۔ ہمیں عالمی امداد اور اپنی اندرونی ضروریات میں توازن قائم کرنا ہوگا۔”

امریکہ کو درپیش مالی چیلنجز

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اگرچہ امریکہ دنیا کا سب سے امیر ملک ہے، لیکن وسائل کی دستیابی لا محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں قومی سطح پر مالی خسارے کا سامنا ہے اور ہماری بہت سی دیگر ترجیحات بھی ہیں۔” روبیو نے مزید کہا کہ چین، بھارت اور دیگر امیر ممالک کو بھی انسانی امداد کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یو ایس ایڈ کی بندش اور عالمی امداد پر اثرات

یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز پر 90 دن کے اندر اندر امریکی امدادی ادارے “یو ایس ایڈ” کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت ادارے کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے جاری منصوبے روک دے۔ ٹرمپ کے قریبی اتحادی ایلون مسک نے بھی فیڈرل ایجنسیوں کے عملے میں کمی اور گرانٹس میں کٹوتی پر زور دیا تھا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں کئی اہم عالمی منصوبے، جن میں خوراک، طبی امداد اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی فوری امداد شامل تھی، شدید متاثر ہوئے۔ کئی ممالک میں جان بچانے والی امدادی کارروائیاں روک دی گئی ہیں یا سست روی کا شکار ہیں۔

میانمار زلزلہ: انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے

پچھلے جمعہ کو میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں اب تک 3,145 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 4,500 سے زائد زخمی ہوئے۔ زلزلے کے باعث تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ حکام کے مطابق 200 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ کئی علاقے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک

مارکو روبیو نے اس بحران کے حوالے سے عالمی برادری کی سست ردعمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ وقت ہے کہ دنیا کے تمام بااثر اور صاحب حیثیت ممالک مشترکہ انسانیت کے جذبے کے تحت میدان میں آئیں۔”

Comments are closed.