اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کمسن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا کیس میں پولیس اور متعلقہ حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانچ جعلی مقدمے درج کروا کر بچیوں اور عورت کو اغوا کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ تحقیقات جاری رکھے مگر کوئی حتمی حکم جاری نہ کرے
لین دین تنازع کا پس منظر
کیس کی سماعت سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول، وقاص احمد اور سہیل علیم کے درمیان مالی لین دین کے تنازع سے متعلق مقدمے پر ہوئی، جس میں وقاص احمد اور سہیل علیم نے اپنے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو تحقیقات تو جاری رکھنے کی ہدایت دی، مگر سپریم کورٹ کے معطل شدہ فیصلے کے تناظر میں کوئی حتمی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کے سخت ریمارکس: جعلی مقدمات اور اغوا پر شدید اظہارِ برہمی
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے اقدامات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے پوچھا کہ:“پانچ جعلی مقدمے درج کروا کر بچیوں اور عورت کو اغوا کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ مدعی کو آج تک کسی نے دیکھا بھی نہیں، پنجاب پولیس کی ایسی کارروائی حیران کن ہے۔”انہوں نے بتایا کہ اس سنگین معاملے کو وزیراعلیٰ پنجاب تک بھیجا گیا، کیونکہ کمسن بچیوں اور عورت کو اغوا کیا گیا تھا۔ جج نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو علم ہونا چاہیے کہ ان کی پولیس عورت کے اغوا میں ملوث پائی گئی ہے۔
جعلی مقدمات کے خلاف سخت ریمارکس
عدالت نے کہا کہ:“جعلی اور جھوٹے مقدمے کروا کر پیسے ریکور نہیں ہوسکتے۔ یہ پرچے ٹرائل میں دس منٹ بھی نہیں ٹھہر سکیں گے۔ جس عورت کو اغوا کیا گیا، اسی کے گھر سے سامان چوری دکھا کر ریکوری ڈال دی گئی۔”
جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ پٹیشنر بھی کوئی “صاف آدمی نہیں”، کیونکہ اس نے 31 کروڑ روپے کی جائیداد فروخت کر دی تھی اور پولیس کے کچھ سینیئر افسر بھی اس کیس میں ماتحت اہلکاروں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ
عدالت نے وضاحت کی کہ چونکہ سپریم کورٹ نے 24 اکتوبر کے فیصلے کو معطل کیا ہے، اس لیے اسلام آباد ہائیکورٹ بھی حتمی فیصلہ جاری نہیں کرے گی جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے مزید حکم نہ آجائے۔وکلاء لطیف کھوسہ اور شہریار طارق نے عدالت کو سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے ٹائم لائن سے آگاہ کیا، جس پر جج نے کہا کہ مرکزی فیصلہ آنے تک کارروائی محدود رہے گی۔
اگلی سماعت کا اشارہ
لطیف کھوسہ نے آئندہ سماعت 27 تاریخ کو رکھنے کی استدعا کی، جس پر جسٹس کیانی نے ہلکے طنز سے جواب دیا: “کیا پتہ 27 کو میں یہاں ہوں گا بھی یا نہیں۔”
عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
Comments are closed.