سلامتی کونسل کی دہشت گردوں کی فہرست میں صرف مسلمان کیوں؟ پاکستان
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل تمام افراد مسلمان ہی کیوں ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو “سمجھ سے بالاتر اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔
غیر مسلم دہشت گردوں کا احتساب کیوں نہیں؟
عاصم افتخار نے کہا کہ دنیا بھر میں غیر مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد بھی موجود ہیں لیکن وہ اکثر احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں میں توازن اور شفافیت ہونی چاہیے تاکہ کسی مذہب یا کمیونٹی کو یکطرفہ طور پر نشانہ نہ بنایا جائے۔
علاقائی سلامتی کو خطرات
پاکستانی مندوب نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کے درمیان تعاون خطے اور دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
افغانستان کی صورتحال
عاصم افتخار نے بتایا کہ افغان عبوری حکومت اس وقت داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، تاہم ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور بلوچ عسکریت پسند گروہ افغانستان کے غیر حکومتی علاقوں میں اب بھی محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ان خطرات کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔
Comments are closed.