اسلام آبادمیں پولیس گردی، اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے طالبعلم قتل، 5 اہلکار گرفتار

ا سلام آباد پولیس کے انسداد دہشتگردی اسکواڈ نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے نوجوان طالب علم کو قتل کر دیا۔ انٹرمیڈیٹ کا طالب اسامہ ندیم گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔ملزمان کو گرفتا رکر کے قتل اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا نوٹیفکیشن بھی جار ی کر دیا گیا۔

 پولیس گردی کا یہ واقعہ سری نگر ہائی وے پرجی ٹین سگنل کے قریب پیش آیا۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ گاڑی پر پیچھے سے نہیں بلکہ سامنے اور داہیں بائیں سے گولیاں برسائی گئیں، گاڑی پر 17 گولیوں کے نشان پائے جن میں تین ڈرائیور اسامہ ستی کو لگیں۔ اے ٹی ایس اہلکاروں نے موقف اختیا ر کیاتھا کہ نوجوان کو گاڑی نہ روکنے پر پیچھے سے فائر کیے گئے تاہم ان کا موقف غلط ثابت ہوا۔ جھوٹ کا پول کھلنے کے بعد مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد ، محمد مصطفی ٰ اور افتخار احمد نامی پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیاہے ۔پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے میں 7 اے ٹی اے ، 302، 148 اور 149 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

جوڈیشل انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رانا وقاص انور کو انکوئری افسر مقرر کیاگیاہے ۔ انکوائری افسر لواحقین ، تمام گواہان اور پولیس افسران کے بیانات قلمبند کرکے پانچ روز میں جامع رپورٹ پیش کریں گے ۔ وزیر دا خلہ شیخ رشید نے بھی کہا ہے کہ اس جرم میں ملوث افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے گی ۔

مقتول کے لواحقین اور اہل علاقہ نے واقعہ سخت احتجاج کرتے ہوئے میت سری نگر ہائی وے پر رکھ کر سڑک بلاک کر دی ۔کئی گھنٹوں کے ا حتجاج کے بعد جوڈیشل انکوائری کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر ا حتجاج ختم کرتے ہوئے مقتول کو ایچ الیون قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مقتول کے والد کاکہناہے کہ ان کا بیٹا رات، 2 بجے اپنے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا،راستے میں پولیس اہلکاروں کیساتھ تلخ کلامی ہوئی جس پر اسے گولیوں سے چھلنی کر دیاگیا۔ مقتول اسامہ اسلام آباد کے علاقے جی 13 میں اپنے والد کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا طالب ہونے کیساتھ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق پولیس کاکہنا ہے کہ سیف سٹی سے سیکٹر ایچ 13 پیرس سٹی میں پولیس ہیلپ لائن پر ڈکیتی کی کال چلی، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے شک پڑنے پر کشمیر ہائی وے جی 10 سگنل کے قریب کار کو روکنے کی کوشش کی جس کے نہ رکنے پر سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے اندھا دُھند فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے الزام لگایا کہ کار سوار نے رکنے کی بجائے ہم پر فائر کیا۔

 دوسری جانب اسلام آباد پولیس مقتول نوجوان اسامہ ندیم کے خلاف دو مقدمات سامنے لے آئی۔پولیس کے مطابق اسامہ کے خلاف تھانہ رمنا میں نارکوٹکس ایکٹ جبکہ تھانہ سیکرٹرہٹ میں فراڈ کا مقدمہ درج ہے ۔تھانہ رمنا میں مقدمہ اکتوبر 2018 میں درج ہو ا تھا۔

Comments are closed.