اسلام آباد : سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پرسماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ نے کہا کہ ہر فوجداری کیس جہاں سیاست ہو اور انصاف نہ ہو تو عدالت کو دوبارہ سننا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے۔ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلےکا جائزہ لےکر رائے دیں۔ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بینچ میں دیگر ججز بھی تھے۔ کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلاکر انکوائری شروع کریں؟ آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ قصوروار ہے؟ پراسیکیوشن یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ؟ ۔ جسٹس منصور علی شاہ کا استفسار کیا ذوالفقار بھٹو کیس میں نظرثانی کا دائرہ اختیار استعمال ہو چکا۔ اب کیا طریقہ کار بچا ہے کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار ہو۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر عملدرآمد کا نہیں ،ایک دھبے کا ہے۔
ذوالفقارعلی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی لیکن بعد میں ایک جج نے انٹرویومیں کہا کہ میں نے دباؤمیں فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہر فوجداری کیس جہاں سیاست ہو اور انصاف نہ ہو تو عدالت کو اسے دوبارہ سننا چاہیے۔ یہ منفرد کیس ہے، عدالت اسے باقی کیسز سے الگ دیکھے۔ عدالت نے مزید سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
: مزید پڑیںhttps://urdu.newsdiplomacy.com/latest-news/blasts-in-iran/
دوران سماعت چیف جسٹس نے احمد رضا قصوری کو روسٹرپر آکر بات کرنے سے بھی روک دیا۔ سماعت کےموقع پر بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو بھی سپریم کورٹ
آئے۔
Comments are closed.