اتنی ضد تو ہماری بیویاں نہیں کرتیں، چیف جسٹس کا عالیہ رشید سے مکالمہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق قومی کھلاڑی عالیہ رشید کی ملازمت سے متعلق نیب کی دوبارہ جائزہ کی یقین دہانی پرمعاملہ نمٹا دیا۔عالیہ رشید کے کنٹریکٹ پرایک سال کیلئے ملازمت دینے کے اصرار پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ اتنی ضد تو ہماری بیویاں بھی نہیں کرتیں،عدالت اس سے زیادہ ریلیف نہیں دےسکتی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق ڈی جی نیب عالیہ رشید کی بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ تین ڈی جیز 31 سال سروس کے بعد ریٹائرڈ ہوئے، عالیہ رشید کی سروس 13 سال ہے، اور انہیں 72 ہزار روپے ماہانہ پینشن ملتی ہے،عالیہ رشید تحریری درخواست دیں جائزہ لیں گے۔

عالیہ رشید نے موقف اپنایا کہ ڈیڑھ سال سے بے روز گار ہیں، ان کی عمر پچاس برس ہے مزید کام کر سکتی ہیں۔ عالیہ رشید کی جانب سے ایک سال کے کنٹریکٹ پر ملازمت دینے پر بار بار اصرار کیا گیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتنی ضد تو ہماری بیویاں بھی نہیں کرتیں،برطرفی کا حکم حتمی ہے جو تبدیل نہیں کر سکتے، عدالت آپ کو اس سے زیادہ ریلیف نہیں دے سکتی۔

عدالت نے ایک سال کے کنٹریکٹ پر ملازمت دینے کی استدعا مسترد کردی۔ نیب کی دوبارہ جائزہ کی یقین دہانی پرعالیہ رشید کیس نمٹا دیا۔

Comments are closed.