اسلام آباد: اسرائیل کے ایک نجی طیارے کی اسلام آباد آمد اور کئی گھنٹے موجود رہنے سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے درمیان سوشل میڈیا پر بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔
احسن اقبال کی جانب سے وضاحت کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ انہیں پاکستان کی ‘جعلی فکر’ نہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ وہ نہ مودی سے خفیہ مذاکرات کریں گے اور نہ ہی اسرائیل سے،
وزیراطلاعات فواد چوہدری نے لکھا کہ:
‘حقیقی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان، نواز شریف ہے اور نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو۔ ہم نہ مودی جی سے خفیہ مذاکرات کریں گے اور نہ اسرائیل سے’۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ
‘آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لیے جعلی فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے’۔
فواد چودھری کی اس ٹوئیٹ پر احسن اقبال نے جواب الجواب میں کہا کہ ‘جس اندازمیں وزیر اطلاعات محض وضاحت مانگنے پر آگ بگولہ ہوئے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے’۔
خیال رہے کہ پچیس اکتوبر کو ایوی شراف نامی ایک اسرائیلی صحافی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ایک اسرائیلی طیارہ پاکستان آیا، تاہم وہ طیارہ دارالحکومت تل ابیب سے براہ راست اسلام آباد نہیں پہنچا بلکہ طیارے کے پائلٹ نے چالاکی کرتے ہوئے پہلے اسے 5 منٹ کے لیے عمان میں لینڈ کروایا اور پھر وہاں سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری۔
اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ طیارہ اسرائیل میں رجسٹرڈ نہیں تھا اور اسے کینیڈا کی طیارہ ساز کمپنی بمبار ڈیئر نے بنایا تھا۔ تاہم اسرائیلی صحافی کی مذکورہ ٹوئیٹ کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں اور افواہوں کا ایک سیلاب آگیا۔
Comments are closed.