پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض کے لیے جاری مذاکرات ختم ہوگئے۔ فریقین اپنے اپنے موقف سے ڈٹے رہے جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ مالی معاونت کی تفصیلات دینے سے صاف انکار کردیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری دور بھی ختم ہو گیا ہے، لیکن ڈیڈ لاک برقرار ہے، فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین کی جانب سے مالی معاونت کی تفصیلات دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری دور وزارت خزانہ میں ہوا۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر خزانہ اسد عمر جبکہ آئی ایم ایف وفد کی سربراہی ہیرلڈ فنگر نے کی۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ بھی شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق فریقین اپنے اپنے نکات اور موقف پر ڈٹے رہے۔ جس کے باعث چھ سے آٹھ ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج پر بھی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ذرائع کے مطابق اپاکستان نے چین سے ہونے والی مالی معاونت کی تفصیلات دینے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ ماننے سے صاف انکار کردیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں مذید اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ آئی ایم ایف وفد بائیس نومبر کو اپنی حتمی سفارشات پاکستان کے حوالے کرے گا۔

دوسری جانب بیل آؤٹ مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف مشن پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خسارہ کم کرنے اور معاشی اصلاحات پر متفق ہے، پاکستان نے سماجی شعبے کے تحفظ اور شفافیت بڑھانے پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان سے مذاکرات کا سلسلہ مزید چند ہفتے جاری رہے گا۔

Comments are closed.