اسلام آباد: سپریم کورٹ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کیخلاف دہری شہریت کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے دیکھنا ہوگا کہ دہری شہریت رکھنے والا مشیر رہ سکتا ہے یا نہیں۔ سُچے پاکستانیوں کی قدر ہونی چاہئے مگر ایسوں کی نہیں جو جہاز میں پاکستان سے کسی کو لینے آتے ہیں۔
زلفی بخاری کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل غیرحاضر رہے۔ معاون خصوصی کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے موکل کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ چیف جسٹس کی جانب سے زلفی بخاری کی اصل وجہ شہرت کا تذکرہ بھی کیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کےسامنے زلفی بخاری کےوکیل اعتزاز احسن نے ان کی کامیابیوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں اور بتایا کہ زلفی بخاری کی فلموں کو کئی ایوارڈ مل چکےہیں، ایسے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔ چیف جسٹس نےاستفسار کیا یہ بتائیں پاکستان میں زلفی بخاری کب مشہور ہوئے، یہ کسی کو خصوصی جہاز میں پِک کرنے آئے تھے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے پہلےبھی دہری شہریت پر افضال بھٹی کو فارغ کیا تھا ، دیکھنا ہےکہ دہری شہریت والا مشیر رہ سکتا ہےکہ نہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا جناب میرا موکل تو اپنی ساری تنخواہ ڈیم فنڈ کو دے رہا ہے۔ اس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی علالت کے باعث کیس کی سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی
Comments are closed.