اسلام آباد: خیبرپختونخواہ میں فاٹا کے انضمام سے متعلق پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیراہتمام ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کا بل منظور کرانے کا فیصلہ اتفاق رائےسے نہیں ہوا۔جس تیزی سے اورجن حالات میں یہ بل منظور کرایا گیا اس پرسیاسی قوتوں کے درمیان خدشات بڑھے ہیں۔ فاٹا انضمام بل کے ارد گرد تضادات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرنعمان وزیرنے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں میں فاٹا کے لوگوں کو نظراندازکیا گیا اورکوئی توجہ نہ دی گئی۔ فاٹا میں جوکچھ ہوتا ہے اس کے اثرات خیبرپختونخواہ تک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں 90 فیصد بیروزگاری ہے، اس تناظر میں فاٹا کے انضمام بل کی منظوری صحیح اور درست اقدام تھا۔ سیاسی جماعتیں فاٹا کے انضمام کی مخالفت نہ کریں۔ فاٹا کیلئے فنڈز یقینی بنانا ہر جماعت کی ترجیح ہونا چاہیے۔
سینیٹرعطاء الرحمان نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ اپنے فیصلوں میں فاٹا کے مقامی لوگوں کوشامل کر لیں۔ تمام سیاسی کارکن اور رہنماؤں کو فاٹا کے انضمام اور اس کے مستقبل کے لئے ایک متفقہ لا ئحہ عمل بنانے کے لئے مل کر بیٹھنا چاہیے۔
افرا سیاب خٹک نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کوئی بڑا مسئلہ نہیں تاہم بڑا اہم چیلنج فاٹا کے عوام کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی شمولیت ہے۔ انضمام کے بعدبھی اس خطے میں کوئی قانون نہیں ہے، جہاں پرانے نظام کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور نیا فاٹا انٹرم گورننس ریگولیٹری نظام ابھی مؤثر نہیں ہے۔
سینیئرصحافی سلیم صافی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فاٹا کے علاقے میں کوئی نظام نہیں ہے۔ فاٹا میں صوبائی اورمقامی حکومت کےانتخابات کو فوری طور پرمنعقد کیا جانا چاہئے۔ وفاقی حکومت کو این ایف سی کے پول سے فاٹا کے لیے تین فیصد کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنا چاہئے۔
جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی نے کہا کہ ان کی پارٹی فاٹا کی انضمام کے خلاف نہیں تھی بلکہ انضمام کے حق میں ہے۔ جے یو آئی ایف کی واحد مطالبہ فاٹا انضمام کے حوالے سے فاٹا کی عوام کی رائے شامل کرنا تھا۔
ملک انور تاج ایم این اے ، پی ٹی آئی، سینئر تجزیہ کار حسن خان اور یو این ڈی پی سے ڈاکٹر اشرف علی نے بھی اظہار خیال کیا۔
Comments are closed.