پاکستان اورفرانس تعلقات میں استحکام کیلئے سیاحت کا فروغ اہم ہے، ایم ڈی پی ٹی ڈی سی

راولپنڈی: پاکستان ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے زیراہتمام پاکستان اور فرانس کے درمیان سیاحت کے فروغ کیلئے پی ٹی ڈی سی ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں اجلاس ہوا۔  جس میں فرانس معروف ٹورآپریٹرز پر مشتمل بارہ رکنی وفد نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منیجر پی ٹی ڈی سی علی اکبر ملک نے کہا کہ پاکستان اور فرانس میں دیرینہ تعلقات قائم ہیں اوران میں مزید استحکام کیلئے سیاحت کا فروغ ضروری ہے۔ اس لئے دونوں ممالک کے ٹورآپریٹرز میں روابط کا قیام نہایت ضرورت ہے تاکہ مشترکہ طور پر سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

علی اکبر ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر پُرامن ملک ہے جہاں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں۔ وہ وقت دورنہیں جب دنیا کو یہ احساس ہو گا کہ پاکستان واقعی جنت نظیرملک ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان بھر میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ سیاحت کی ترویج و ترقی کیلئے نئی جہتیں متعارف کرارہے ہیں۔ نجی شعبے کے ساتھ ساتھ لوکل کمیونٹی میں بھی سیاحت سے متعلق شعوراجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اعلی معیار کی سہولتیں دستیاب ہوں۔

فرانسیسی باشند وں کی سہولیت کیلئے بروشرز فرانسیسی زبان میں شائع کیے جائیں گے اور پی ٹی ڈی سی کی ویب سائیٹ کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی دستیاب ہے۔ اجلاس میں منیجر فلیشمین اشفاق احمد لوٹھڑ، منیجر پبلسٹی مختار علی اور منیجر اکاؤنٹس عادل زیدی اور انچارج ٹورز ارشد علی شامل تھے۔

فرانسیسی ٹور آپریٹرڈومینیک آندرے نے کہا کہ پاکستانی کھانے فرانسیسی باشندوں کو بہت پسند ہیں۔ ہرسال فرانسیسی سیاحت کیلئے بڑی تعداد میں مختلف ممالک کا رُخ کرتے ہیں جن کیلئے پاکستان ایک منفرد مقام ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ٹور پیکجز ترتیب دینے اور ٹورآپریٹرز کے مابین تعاون بہت ضروری ہے۔ پاکستان کے ٹور آپریٹرز اور قومی سیاحتی ادارے اگر اپنے سیاحتی مقامات کی بذریعہ موبائل ایپس، سوشل میڈیا پر فرانسیسی زبان  میں ترویج کریں تو فرانس سے سیاحوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کر سکتی ہے۔

گروپ کے دیگر ممبران میں ڈینس گھمبون، فرانسس پاولا، لائیونل پاویل، یاؤ کیکشن، ویلنٹین ارورے، سولیین میری، یان فرانسس کرسٹین، میری اینک، ایسیا سماٹی اور جوڈتھ ہیلین شامل ہیں۔ بریفنگ کے بعد وفد کو راولپنڈی اور اسلام آبادکے نمایاں سیاحتی مقامات کی سیر کروائی گئی

Comments are closed.