ہارس ٹریڈنگ کے بیان پرتیمورتالپورکی معافی کی درخواست مسترد، تحریری جواب طلب

اسلام آباد۔ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق بیان پررکن سندھ اسمبلی تیمور تالپورنے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی،الیکشن کمیشن نے رکن سندھ اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئےتحریری  جواب طلب کر لیا۔

 چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا اور ممبر بلوچستان شکیل بلوچ پر مشتمل بینچ نے ہارس ٹریڈنگ  کے معاملے  پرسماعت کی ،،،،رکن سندھ اسمبلی تیمورتالپورالیکشن کمیشن کے روبروپیش ہوئے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ زمانے سے یہ بات چل رہی ہے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی،چاہتے ہیں ہمیں کوئی ثبوت ملے تاکہ ایکشن لیں۔

سردار رضا نے کہا کہ تیمورتالپورکی بات سن کرہمیں امید بندھی ہے۔کورٹ روم میں تیمور تالپور کی تقریر کو بڑی سکرین چلایا گیا،تیمور تالپور  کے وکیل نے کہا کہ تیمورتالپورکے بیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرچلایاگیا،تیمورتالپور نے کسی پرذاتی الزام نہیں لگایا،تیمورتالپور نے ہارس ٹریڈنگ سے متعلق جنرل بات کی،تیمورتالپور نے الیکشن کمیشن سے غیرمشروط معافی مانگ لی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ لگتا ہے تیمورتالپورکوووٹ بیچنے والے کا نام معلوم ہے، کہیں ایسا تونہیں پارٹی کے دباؤپربیان سے مکررہے ہیں؟آپ نے کہاووٹ بیچنے والاشخص اسمبلی میں بیٹھا ہے، الیکشن کمیشن نے تیمورتالپورسے بیان پرتحریری جواب طلب کرلیا۔۔۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا تیمورتالپورکے اسمبلی میں بیان کوآئینی تحفظ حاصل نہیں؟،وکیل نے کہا کہ اسمبلی میں بیان کوبھی پارلیمنٹ کی طرح آئینی تحفظ حاصل ہے،الیکشن کمیشن نے نئی درخواست پرتیمورتالپور کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

Comments are closed.