دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہوئی۔ پاکستانی اٹارنی جنرل نے سماعت کے آغاز پر ایڈہاک جج تصدق جیلانی کے عدالت نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کا اختیار ہے، لیکن پاکستان عدالت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے مکمل پرعزم اور تیار ہے، تاہم انہوں نے ایڈہاک جج تبدیل کرنے کی استدعا بھی کی،
اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی، پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کرائی اور جاسوس بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ہونے کے باوجود دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے، بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے، کلبھوشن یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے لئے کام کر رہا تھا، کلبھوشن یادیو بلوچستان، گوادر، کراچی میں دہشتگردی کرانے کیلئے بھیجا گیااس نے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کا عدالت کے سامنے اعتراف کیا۔
اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان دشمن ملیشیا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے، پاکستان میں بھارت کی تخریبی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ کلبھوشن یادیو نے کراچی میں متعدد دہشت گردی کے حملے کروائے جن میں پولیس افسر چوہدری اسلم سمیت متعدد سیکورٹی اہلکار اور معصوم شہری شہید ہوئے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، آرمی پبلک سکول حملے پشاور حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا جس میں ایک سو چالیس معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ بھارت پاک چین اقتصادی راہداری کو نشانہ بنانے کیلئے تخریبی کارروائیاں کر رہا ہے،کمانڈر یادیو کی کارروائیاں انفرادی نہیں بھارت کی ریاستی دہشتگردی ہے، بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کرے گا، یہ بھارت کی دوہری پالیسی ہے کہ وہ خود کو دہشتگردی سے متاثرہ کہتا ہے، درحقیقت بھارت پڑوسی ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کمانڈر یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی، انہوں نے بھری عدالت میں مخالف کو چیلنج کیا کہ بھارت ایسی کوئی مثال سامنے لے آئے،بھارت کا کوئی بھی اقدام ہمیں اپنی مادروطن کے تحفظ سے نہیں روک سکتا۔ پاکستان عالمی عدالت انصاف سے قانون کے مطابق کارروائی کی توقع کرتا ہے۔
صدر عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ ایڈہاک جج جسٹس ریٹائرڈ تصدق جیلانی کی جگہ نئے ایڈہاک جج کی نامزدگی کے حوالے سے پاکستان کے سوال کا مناسب وقت میں جواب دیا جائے گا۔
Comments are closed.