آئی ایم ایف کی شرط پر لگژری آئٹمز پر عائد پابندی ہٹانے کا اعلان
سگریٹ مزید مہنگے ہوں گے، ایف بی آر نے اٹھارہ ارب روپے کا ٹیکس تجویز کیا تھا، ریٹیل پر عائد فکسڈ ٹیکس واپس لے رہے ہیں، اگلے تین ماہ موجودہ انکم اور سیلز ٹیکس کی شرح برقرار رہے گی، تین ماہ بعد پچاس سے زائد یونٹس کے استعمال پر ٹیکس کی شرح بڑھے گی،مفتاح اسماعیل
اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایکسپورٹ اور ترسیلات کے برابر امپورٹ کریں گے۔ آئی ایم ایف نے انتیس اگست کو ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ کال کی ہے۔ انتیس اگست کو پاکستان کا پروگرام منظور کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تمام ایکشن پلان مکمل کر لیے گئے ہیں
ویرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چار ارب ڈالر کی فنانسنگ گیپ کو سعودیہ، یو اے ای اور قطر سے پورا کر لیا ہے۔ چین نے بھی دو ارب ڈالر کا قرض رول اوور کر دیا ہے۔ گندم اور کھاد کی کمی کے باعث دس لاکھ ٹن گندم اور پانچ لاکھ ٹن کھاد درآمد کی۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے بورڈ اجلاس سے پہلے امپورٹ پر پابندی ہٹا دی جائے۔ وزیراعظم اس چیز کے مخالف ہیں کہ آسائش کی چیزیں امپورٹ کریں۔
وزیر خزانہ نے تمام اشیا کی درآمد سے پابندی ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لگژری درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے گی ۔ گرین چینل کے ذریعے جو سمگلنگ ہو رہی ان کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بجلی کے نرخوں پر فنڈڈ سبسڈی فراہم کریں گے۔ ریٹیل سیکٹر پر ٹیکس عائد کرنے سے 42 ارب روپے کا ہدف تھا۔ رینٹل پر تمام دکانوں پر ٹیکس لگانے کا ٹارگٹ میری غلطی تھی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یکم اکتوبر سے تاجروں پر 7.5 فیصد اِنکم ٹیکس اور 5 فیصد سیلز ٹیکس ہو گا۔ یکم اکتوبر کے بعد پچاس یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے تاجروں پر ٹیکس بڑھے گا۔امپوٹڈ لگژری آئٹم کی درآمد پر پابندی ختم کر رہے ہیں۔ لگژری گاڑیوں اور الیکٹرونکس پر 400 سے 600 فیصد ٹیکس کردیں گے۔ آرڈیننس کے زریعے تاجروں کے لیے ٹیکس لائیں گے۔ صنعت کاروں کو مشینری کی درآمد کی جلد اجازت دی جائے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کل صنعت کاروں کے ساتھ میٹنگ کروں گا۔ صنعت کاروں کو چھوٹی مشینری کی درآمد پر ابھی بھی پابندی نہیں ہے۔ جو صنعت کار مشینری درآمد کر کے مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ان کیلئے ابھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لگژری آئٹم پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے 14 ارب روپے تک کا ٹیکس ملے گا۔ درآمدی اشیا پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ آئی ایم ایف کی رضا مندی سے ہوا۔ یکم اکتوبر سے تاجروں پر فکس ٹیکس لائیں گے۔ سگریٹ اور تمباکو پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمباکو پر 10 روپے سیس سے بڑھا کر 380 روپے فی کلو کر رہے ہیں۔ تمباکو کی کمپنیاں ٹریک اینڈ ٹریس میں آگئی ہیں۔ ٹیوب ویل کے پیٹر انجن پر ٹیکس ختم کر رہے ہیں۔ روس سے 390 ڈالر فی میٹرک ٹن کے حساب سے گندم خریدی جائے گی۔ روس سے 1 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدیں گے
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم آرمی چیف کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے آرمی چیف ہیں۔
Comments are closed.