ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود اعظم سواتی کا بیرون ملک سفر منسوخ، معاملہ دوبارہ عدالت میں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور سینئر رہنما اعظم خان سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک روانگی سے روک دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ بیرون ملک سفر کے لیے روانہ ہو رہے تھے، تاہم ایف آئی اے حکام نے انہیں پی این آئی ایل (Provisional National Identification List) میں نام شامل ہونے کی بنیاد پر سفر سے روک دیا۔

ہائی کورٹ میں توہین عدالت درخواست
اس اقدام کے خلاف اعظم سواتی نے پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں سفر سے روکنا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی احکامات اور ایف آئی اے کی یقین دہانی
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی پشاور ہائی کورٹ نے اعظم سواتی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی درخواست منظور کر لی تھی۔ سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ اعظم سواتی کا نام کسی بھی فہرست میں شامل نہیں اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت ہے۔ نمائندہ ایف آئی اے نے بھی عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اب ان کے سفر پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

پی این آئی ایل کا نیا مسئلہ
تاہم تازہ ترین صورتحال میں ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ اعظم سواتی کا نام اب پی این آئی ایل میں شامل ہے، جو ایک عارضی فہرست ہے جس کے ذریعے شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس پیشرفت پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ عدالتی احکامات کے باوجود فہرست میں نام شامل کرنا کس حد تک قانونی جواز رکھتا ہے۔

سیاسی و قانونی اہمیت
یہ معاملہ نہ صرف اعظم سواتی کے لیے بلکہ پاکستان میں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک اہم ٹیسٹ کیس بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس میں عدالت سخت مؤقف اختیار کرتی ہے تو یہ مستقبل میں سرکاری اداروں کی قانونی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Comments are closed.