عام انتخابات سے قبل پاکستان دھماکوں سے لرز اٹھا

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں بھی انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قلعہ سیف اللہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدوار مولاناعبدالواسع کے انتخابی دفتر کے قریب ہوا ہے۔
مولانا عبدالواسع بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 3 سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت مولانا واسع دفتر میں موجود نہیں تھے۔
بلوچستان کے علاقے خانوزئی میں انتخابی دفتر پر بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور لگ بھگ 25 زخمی ہو گئے ہیں۔دھماکہ خانوزئی تحصیل میں آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ کے الیکشن آفس کے باہر ہوا ہے۔

دھماکہ کے بعد شیخ زید، بی ایم سی اور ٹراما سینٹر سول اسپتال میں آپریشن تھیٹر اور عملے کو الرٹ کر دیا گیا ہے جب کہ ریسکیو 1122 نے زخمیوں اور میتوں کو تحصیل اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ پلانٹڈ ڈیوائس سے کیا گیا اور بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ نگران وزیرداخلہ میر زبیر جمالی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی پشین سے رپورٹ طلب کی ہے ۔
بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل خانوزئی میں انتخابی امیدوار کے دفتر کے باہر دھماکہ ہوا ہے جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے ایک آزاد امیدوار کے انتخابی دفتر کے باہر ہوا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔

مزید خبروں کیلئے وزٹ کریں

Comments are closed.