لاہور: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کی ، بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ نوازشریف کافی بیمارلگ رہے تھے اور جس علاج کا مطالبہ میاں صاحب کررہے ہیں وہ ان کوفراہم کیا جائے۔
کوٹ لکھپت جیل کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بیمار قیدی کے علاج معالجہ کو بہترین سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔نواز شریف نے کہا کہ وہ نظریاتی ہیں اورنظریاتی سیاست کریں گے، وہ اپنے اصولوں پرقائم ہیں اور لگتا نہیں کہ وہ کوئی ڈیل کریں گے جب کہ نہیں چاہوں گا کہ عمران خان کو بھی یہ وقت دیکھنا پڑے کہ ان کے بچوں کو ادھرادھر بھاگنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ آج میرے لیے تاریخی دن ہے کیوں کہ اسی جیل میں شہید ذوالفقارعلی بھٹو بھی قید رہے اور میں کچھ عرصے سے ملک سے باہر تھا تو میاں صاحب کی طبیعت کی خرابی کا پتا چلا اس لیے آج نوازشریف کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل گیا جب کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ہمارا دین بھی دیتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف کافی بیمارلگ رہے تھے اور جس علاج کا مطالبہ میاں صاحب کررہے ہیں وہ ان کو فراہم کیا جائے، دل کے مریض کودباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر بےنظیر بھٹو اور نوازشریف نے 2006 میں دستخط کیا تھا لیکن میثاق جمہوریت پرمکمل عمل درآمد نہیں کیا یہ ہماری ناکامی ہے۔
قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کے دوران نواز شریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ملکی سیاسی صورت حال اور پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Comments are closed.