اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ وہ اب مسلم لیگ ن میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن صرف میاں شہباز شریف نہیں سیاسی جماعتیں ہیں۔ مسلم لیگ ن کی بہت بڑی ٹیم ہے، اگر مشورہ مانا جاتا تو آج ن لیگ کی حکومت ہوتی۔
عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں ہار ملی تو سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار ناراض ہو کر سیاسی منظر نام سے کچھ دور ہو گئے۔ اب لب کشائی کی تو حکومتی پالیسیز پر تنقید کیے بغیر نہ رہ سکے، مسلم لیگ ن کو پھر یاد کرادیا، کہ ان کی بات مان لی جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی ۔
سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے ملنے والی امداد وقتی ہے، وزیراعظم عمران خان کی خود انحصاری کے متعلق بیان پر بولے کہ انہیں تو خود انحصاری کی کوئی بات نظر نہیں آرہی۔ خدشہ ہے کہ پہلے غیروں کے قرضوں میں جھکڑے تھے اب دوستوں کے قرضوں میں جھکڑ نہ جائیں۔
عام انتخابات میں اپنی شکست پر چودھری نثار نے کہا کہ وہ نتائج کس طرح قبول کرلیں؟ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو فوج اور عدلیہ کے خلاف زبان استعمال نہ کا مشورہ دیا تھا، بات مان لی جاتی تو آج مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی ۔
احتساب کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اپوزیشن پر جس طرح احتساب لاگو ہے اسی طرح حکومت پر لاگو ہونا چاہئیے، احتساب حکومتیں نہیں احتساب ادارے کرتے ہیں ۔
Comments are closed.