آزادی کے متوالے ،المعروف چاچا آزادی،،کو چار سال بعد رہا کر دیا گیا

پرجوش اور منفرد نعروں کے لیے معروف کشمیری آزادی پسند بزرگ سرجان برکاتی عرف ”چاچا آزادی “ کو چار سال کی قید کے بعد آج رہا کردیا گیا ہے۔

کشمیری میڈیا کے مطابق اہل خانہ نے چاچا آزادی کی ہرپورہ شوپیاں کے پولیس اسٹیشن سے رہائی کی تصدیق کی ہے۔

سرجان برکتی کو 2016 انتفادہ کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں نافذ کالے قانون  پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھارت مخالف جلسے منظم کرنے کا الزام عائد گیا تھا۔

 واضح رہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک نے ایک نیا موڑ لیا تھا۔اس دوران ہونے والے ان جلسوں نے جنوبی کشمیر کے بے شمار نوجوان کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ چاچا آزادی کے پرجوش نعروں نے سیکٹروں نوجوانوں کو تحریک کے قافلے میں شامل ہونے پر راغب کیا اور وہ ہر جلسے کا لازمی جزو بن گئے۔

منفرد اور جوشیلے انداز میں ان کے نعرے شرکاء کا لہو گر جاتے اور پورا مجمع بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھتا۔  چاچا آزادی کے یہ نعرے سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ وادی سے نکل کر دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کے دل کی دھڑکن بن گئے۔

چاچا آزادی کی گرفتاری کے بعد کشمیر میں 5 اگست 2019 کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد ریاست کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر دیا گیا۔اب چاچا آزادی ایک بار پھر اپنے لوگوں میں پہنچ چکے ہیں اور ہر کوئی منتظر ہے کب وہ آزادی کا علم اٹھائے پھر سے نعرہ لگاتے ہیں،،آئی آئی،،آزادی آئی۔۔۔۔۔

Comments are closed.