سرحدی باڑ کے باعث افغانستان سےحملے رک گئے، میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان جنرل میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگنے سے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔

ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور  کے ہمراہ پشاور، میران شاہ اور غلام خان بارڈر ٹرمینل کا دورہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے فائدہ مند ہے پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانسان میں امن کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ جب ہمسایہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو تو اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میں آئیں تو استحکام آئے گا اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں جہاں باڑ لگ چکی وہاں سے دہشت گردوں کا گزرنا ناممکن ہوگیا ہے،سرحدی باڑ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھےاور آرمی چیف کا خیال تھا کہ سرحد محفوظ بنانا چاہیے اب باڑ لگانے سے سرحد سے حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فاٹا کے ضم ہونے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ 70برس سے علاقہ غیر کہلانے والا علاقے اب پاکستان کا حصہ ہےاس انضمام سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے،مقامی لوگ تمام انتظامات سے بہت مطمئن ہیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مقامی انتظامیہ مضبوط ہو اور پولیس کا نظام جیسے بہتر ہوگا تو حالات مزید بہتر ہوںگے جب کہ چیک پوسٹ مقامی انتظامیہ کے حوالے کردی گئی ہیں اورشمالی وزیرستان میں جتنی پابندیاں تھی وہ ختم ہوگئی ہیں ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے امن کے لئے 20 برس جنگ لڑی اب پاکستان میں مجموعی طور پر امن قائم ہوچکا ہے، انضمام شدہ علاقے میں برسہا برس جنگ رہی ہےلہذا مسائل کو حل کرناترجیح ہے،ریاستی ادارہ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ مسائل کا مداوا کریں یہاں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل نہ ہو،ان لوگوں کے مسائل کا حل ملک کے باہر نہیں بلکہ اندر ہی تلاش کرنا ہے اورلوگوں کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.